ڈاکٹریونس بٹ کہتے ہیں کہ’ فلاسفر وہ ہوتا ہے جو مسئلے کویوں حل کرے کہ لوگ اس حل کے بعد کہیں اس سےتومسئلہ ہی اچھا تھا‘‘۔یہ جملہ کئی سال پہلے پڑھا۔ بظاہرسمجھ بھی آگیا تھا لیکن اندازہ نہیں تھا کہ یہ جملہ کس کیفیت پر فٹ بیٹھے گا۔؟۔ بالکل ویسے ہی جیسےبازار سےلپ اسٹک لینے جانے والی خواتین ڈوپٹہ خرید لاتی ہیں لیکن اندازہ نہیں ہوتا کہ کس سوٹ کے ساتھ فٹ بیٹھے گا ۔؟۔ خواتین ہر وقت کچھ نہ کچھ کر رہی ہوتی ہیں ۔ اسی محنت اور لگن کی وجہ سے انہیں ایک دن وہ چیز مل جاتی ہے ۔جو گم تو ہوئی ہوتی ہے لیکن وہ اسے ڈھونڈنہیں رہی ہوتیں ۔۔
پیر، 25 مئی، 2020
اتوار، 3 مئی، 2020
پاکیزہ خواب
ہیکنگ ایسا پیشہ ہے۔ جسے مہذب معاشرےمیں اچھانہیں سمجھا جاتا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہیکنگ ’’ویسا پیشہ‘‘ہے۔جس کے بارے میں منٹو نے کہا تھا ’’ہمارا معاشرہ ایک عورت کو کوٹھا چلانے کی اجازت تو دیتا ہے لیکن تانگہ چلانے کی نہیں‘‘۔ ہیکنگ اور منٹو کا نثری فیوژن شائد پہلی بار ہوا ہے۔؟۔ لیکن اس فیوژن سے مراد یہ نہیں کہ ہیکنگ تانگے پر بیٹھ کر کی جا سکتی ہے۔ کوٹھے پر بیٹھ کر نہیں ۔ کوٹھا ہویا ہیکنگ دونوں دھندے ہیں ۔ ہیکنگ کرنے والے ہیکرز کہلوا تے ہیں اور کوٹھے پر جانے والے چیکرز۔
جمعرات، 16 اپریل، 2020
علامتی شوہر اور سوشل ڈسٹنسنگ
کورونا وائرس نے سوشل ڈسٹنسنگ کے نام پر ہمیں ان لوگوں کے ساتھ رہنے پر مجبور کر دیا ہے جن کے سوشل ہونے پر بھی شک تھا اور ان سے ڈسٹنس رکھنا بھی ضروری تھا۔ ۔اورستم یہ کہ ہمارے پاس آپشن بھی کوئی نہیں ۔ہمیں بس گھروں میں ہے اور ان کے پاس رہنا ہے جن سےدور رہتے تھے ۔یہ ضروری بھی ہے اور مجبوری بھی ۔ سماج نے گذشتہ کئی سال میں ۔ ہمیں اتنا نہیں سکھایا جتنا۔ کورونا نے چند دن میں سمجھا دیا ہے۔شوہروں کوچاہیے کہ وہ بلا خوف گھر پر رہیں۔اللہ نے شادی کروا دی ہے تو حفاظت بھی وہی کرے گا۔
ہفتہ، 23 فروری، 2019
ورچوئل دلہن
کہتے ہیں
کہ’’نیچے گرناایک حادثہ ہےاورنیچے رہنا مرضی‘‘۔اس جملے کی تفسیرسمجھ نہ بھی آئے تو
بھی خیر ہے کیونکہ تاثیر۔ با آسانی سمجھ آجائے گی۔ تفسیرتو کہتی ہے کہ۔جملے کا
پہلا حصہ کنواروں کے لئےہے اوردوسراشوہروں کے لئے۔ شوہر ہمیشہ اوپررہنے کے شوقین
ہوتے ہیں لیکن انہیں جگہ نیچے ملتی ہے۔ہو سکتا ہے بنتی بھی نیچے ہی ہو۔ اور بیویاں
سماج میں نیچے رہتی ہیں جبکہ گھروں میں اوپر۔ہو سکتا ہے ان کی جگہ بنتی بھی ایسے
ہی ہو۔
جمعہ، 14 ستمبر، 2018
’’نکر یا ڈائپر‘‘
یہ زریں
قول کسی جہاں دیدہ، داناوبینا کے بجائے ۔کسی تجربہ ساز کا لگتا ہے کہ اگر بچے
کوناک میں انگلیاں مارنےکی عادت ہوتو اسے ڈھیلے الاسٹک والی نکر پہنائیں۔ یوں۔نہ رہےگا ہاتھ نہ بجے گی ’’بانسری‘‘۔ الاسٹک
ربڑ سے بنا ہوا ایک لچک دار فیتہ ہوتا
ہے۔جو ’’ٹیٹھ ہڈی‘‘ بچے کی طرح وہیں آکررکتا ہے۔جہاں سے ہٹایاجاتا ہے۔جبکہ نِکر
ایک ڈھیلا ڈھالا پہناوا ہے۔یہ پہناوا جتنا لمبا ہوتا جائے اتنا ہی مردانہ دکھائی دیتا
ہےاور جتنا چھوٹا ہوتا جائے۔ اتناہی زنانہ۔نکرکی لمبائی اورچھوٹائی کا سلسلہ
اکثر جاری رہتا ہے اورکئی بارتونکرسےشروع ہونے والا سلسلہ ’’نہ کر‘‘پر پہنچ کرختم
ہوتا ہے‘‘۔ انسان برہنہ پیدا ہوتا ہے اورجب تک وہ خودپہننےکے قابل نہیں ہوجاتا۔اسےسب
سےزیادہ نکرپہنائی جاتی ہے۔بلکہ سب سے زیادہ اتاری بھی نکر ہی جاتی ہے۔
بدھ، 15 اگست، 2018
جہاز باہر کھڑا ہے۔ !
میں تقریبا تین دہائیوں سے موٹر سائیکل کا مسافرہوں۔ بالوں میں
چاندی اترآئی اور موٹرسائیکل کا رنگ نکل آیا۔ لیکن یہ بکھیڑاحل نہیں
ہواکہ موٹرسائیکل کی سی سی یا گاڑی کی ہارس پاورکیا بلا ہے۔؟۔البتہ دوستوں نے جب
بھی موٹر سائیکل اوردشمنوں نے گاڑی خریدی۔میں نے یہ ضرور پوچھاکہ یہ کتنےسی سی
ہے؟۔ایسے سوال پوچھنے میں کیا معرفت تھی۔ اورجواب جاننے میں کیاحکمت۔آج تک نہیں
پتہ۔؟ شعور۔ابھی پورے طورپرٹمٹمایا بھی نہیں تھاکہ ہارس پاور کے ساتھ۔ہارس
ٹریڈنگ کا بکھیڑا بھی اٹھ کھڑا ہوا۔ٹُو بی اور ناٹ ٹُو۔بی کی طرز پر عجب خود کلامی
جاری رہتی۔
پیر، 7 مئی، 2018
رابی پیرزادہ سچ کہتی ہیں ؟
کبوتر با کبوتر۔۔ باز۔با۔باز
فارسی کے اس شعر کوسمجھنےسے پہلے۔ میں۔ جب بھی۔ ہم جنس کے بارے میں سوچتا تھا۔ میرے
ذہن میں ہم جنسی پرستی آتی تھی۔۔میرے
تخیل نے کئی بار کبوتر با کبوتر کے بارے میں اڑان بھری لیکن سوچ۔ باز۔ با۔باز سے
باز نہ آئی۔ اللہ جانے یہ کوئی پری پول رگنگ تھی۔ پینتیس پنکچر تھے۔
ایمپائرکو ساتھ ملایا ہوا تھا۔کسی انگلی شنگلی کاچکر تھا یا خلائی مخلوق کے اثرات۔
جوکچھ بھی تھا۔نتیجہ بہت بھیانک تھا۔میں
اس شعر میں پاس نہ ہو سکا اورہم جنس پرستی سے آگے نہ بڑھ
سکا۔ اصلاحِ خیال اورنتیجے میں بہتری کے لئے۔میں۔ باقاعدہ اہل دانش کے ہاں بھی۔پہنچا۔اساتذہ
سےجوتفہیم ملی۔اس کے بعد الحمد اللہ۔! میری پریشانی رفع ہوگئی۔سارےشش و پنج
کافورہوگئے۔اب میں۔پہلے سے زیادہ یقین سے۔ہم جنس سے مراد ہم جنس پرستی سمجھتا ہوں۔
بدھ، 25 اپریل، 2018
’’ مجھے کیوں مارا۔ ؟‘‘
میرا دوست شیخ مرید آج طویل وقفے کے بعد ملا تھا۔اور۔۔اتنا خوش
تھاکہ ۔خوشی۔رال کی طرح باچھوں سے جھلک رہی تھی۔
میں نےرسماً۔۔ اسےایک دھپا دیا اورپوچھا۔سناؤکیسی گذر رہی ہے؟۔
باچھ مزید پھیلی اوررال جھلکی۔۔الحمد اللہ، سبحان اللہ ،
ماشااللہ۔ بہت اچھی۔ وہ بولا۔
طبعیت کچھ زیادہ ہی بشاش تھی۔کیونکہ تین تین کلمات طیبات یک مشت
ادا ہوئے تھے۔
منگل، 26 ستمبر، 2017
زیرو سائز بیوی
دوسری شادی مردکی پہلی ضرورت ہوتی ہے۔بندہ
دوسری شادی کرے توکسی میم سےکرے۔جتنی دیرمیم کو زبان سیکھنے۔فرفر بولنے اور
گالیاں سمجھنے میں لگے گی۔شوہرکی زندگی پُر سکون رہے گی۔دیسی لڑکی سے دوسری شادی
کرنا۔ایسے ہی ہے جیسے بندہ موبائل کی نئی کیسنگ خرید لے۔پہلی بیوی بدتمیز ہے تو
دوسری بھی نکلے گی۔پہلی موٹی ہوگئی تو دوسری کی بھی گارنٹی نہیں۔بلکہ ممکن ہے۔پہلی
طلاق لے لے اور۔دوسری نہ لے۔طلاق کےلئےسب سےزیادہ ضروری چیزشادی ہے۔شادی ایسا
تعلق ہے۔جس میں ایک ہمیشہ درست ہوتاہے۔اور۔دوسرا شوہرہوتا ہے۔بیوی
جب کھل کے سونا چاہتی ہے۔ شوہرسےلڑائی کرلیتی ہے۔ ’’پھردونوں ہنسی خوشی
رہنےلگے‘‘۔کے اخلاقی سبق صرف نصابی کہانیوں میں ہوتے ہیں۔
خواتین کاحُسن ان کی خاموشی میں چھپا ہوتا ہے۔اسی لئے خاتون جب تک بیوی نہ بن جائے
بدھ، 23 اگست، 2017
چائے کی پیالی میں طوفان
فیصل
آبادکاگھنٹہ گھرآٹھ بازاروں میں ویسےہی گھرا رہتا ہے۔جیسے رضیہ غنڈوں میں رہتی
ہے۔آٹھ بازاروں میں چائے کےبہت سےڈھابے ہیں۔جن میں سےکچھ سُرخوں
کےہیں۔کچھ’’سبزوں‘‘کے۔اور۔کچھ رلےملے۔ان ڈھابوں کی مشترکہ خصوصیت چائے ہے۔اعلی قسم
کی چائے۔تیز دم۔ ٹھاہ کرکے لگنے والی۔ذائقہ
اپنے پن کا۔۔تگڑا رنگ
اورجوش۔۔جیسی کئی خصوصیات والی ڈھابہ چائے۔لیکن یہاں چائےامی بناتی ہیں اورنہ ہی
امی کے گھرسےمنگوائی جاتی ہے۔اکھاڑےجب سےبندہوئےہیں۔تب سےیہ کام پہلوانوں نےسنبھال
لیا ہے۔ٹھنڈی کھوئی والےپہلوانوں نے۔میں نےاندرداخل
ہوتےہی آواز دی۔’’پہلوان ایک کڑک چائے۔ملائی مارکے‘‘۔جمعرات، 3 اگست، 2017
آخری گنجے فرشتے
اردو ادب میں گنجے۔منٹو کی وجہ سے مشہور ہوئے اور سیاست میں’’
شریفوں‘‘کی وجہ سے۔منٹو نے گنجے فرشتے لکھ کر فلمی و غیر فلمی کرداروں
کویوں برہنہ کیا۔گویا۔وہ میامی میں کسی نیلگوں’’ بیچ‘‘ پر لیٹے سن باتھ لے رہے ہوں
۔اُسی ساحل پر جن کے بارے میں سوچ کرہی دل کمینہ ہوجائے۔اور۔خواہ مخواہ چُٹکیاں
بھرنےلگے۔گنجے فرشتے میں منٹو صاحب نے عصمت چغتائی سے لے کرفلم سٹار نسیم بانو
تک۔ سارے ملائم کردارکھردرےکرچھوڑے۔۔البتہ معروف مزاح نگار عطا الحق قاسمی نے’’مزید
گنجے فرشتے‘‘لکھ کر نہ صرف کھردروں کو ملائم کیا ۔بلکہ ان کرداروں کوکپڑے واپس
پہنائے۔جن کےمنٹو نے اتار دئیے تھے۔’’گنجے فرشتے‘‘ کے دیباچے میں منٹو خود
کہتے ہیں کہ’’میرے اصلاح خانے میں کوئی شانہ نہیں۔ میں بنائو سنگھار
کرنا نہیں جانتا۔ اس کتاب میں جوفرشتہ بھی آیا اس کا مونڈن ہوا ہے اوریہ رسم میں
نےبڑےسلیقے سےاداکی ہے‘‘۔
ہفتہ، 15 جولائی، 2017
ایک رن مرید سے مکالمہ
تمہیں پتہ ہےکہسقرا ط۔رن مریدوں کاجد امجد
تھا ۔؟۔بہت کم شوہروں پرویسا ازدواجی تشدد
ہوتاہے۔ ۔جیساسقراط پرہوتا تھا۔یہ رولنگ میرےدوست شیخ مرید نے دی تھی۔
میں
مریدکی رائے پررائے زنی کرنا چاہتا تھا۔اور۔جونہی منہ کھولا ۔توکم بخت سمجھا
۔میں جمائی لے رہا ہوں۔اور۔وہ ۔ جواب سنے بغیرہی۔۔پھربول پڑا۔کس جاہل سےمتھا۔
لگ گیا میرا۔۔تم کہیں ابوجہل کی لڑی سےتونہیں۔؟۔اس نے دوسری رولنگ دی۔تو۔میں نے
دوسری ’’جمائی‘‘ لی ۔وہ ہیٹرک چانس پر تھا ۔بولا۔بھئی میں توسقراط کی لڑی سے ہوں۔
تمہیں پتہ ہے۔سقراط کوزہرسے رغبت تھی۔؟۔ایک بار۔وہ ریاست کی سب سے بدمزاج،
بدزبان اوربدتمیزعورت کی تلاش میں نکل پڑا۔۔اور۔وہ عورت اسےمل بھی گئی۔اللہ جانے
اس میں فلسفہ تھا یا۔معرفت۔۔ کہ ’’حضور‘‘ نےاُس سے شادی کرلی۔
ہفتہ، 20 مئی، 2017
مبارک ہو طلاق ہو گئی ۔؟
یہ جولائی 2016کی بات ہے جب میرے دوست شیخ مریدنےبھری محفل
میں اعلان کردیاکہ وہ دوسری شادی
کرنے والا ہے۔اعلان سن کرہمیں دو طرح کی
فِیلنگ ہوئی۔پہلی یہ کہ’’بیوی تو ایک بھی کافی ہوتی ہے‘‘ اوردوسری یہ کہ’’بیچاری
کہیں معذورہوگی‘‘۔؟۔مرید۔
بونگیاں مارنا میں ماہر تھااورہمیں
سیاست سے نفرت تھی۔شیخ کی باتیں۔شیخیوں، بڑھکوں اورمبالغوں پرمبنی ہوتی تھیں۔اورہم ایسی سیاسی تاویلوں سے۔بےپرواہی۔بے یقینی اور۔لاتعلقی۔ظاہرکرتے تھے۔ہمارے ہاں سنجیدہ لوگ
۔ہمیشہ۔ بیوی کی باتوں
کوغیرسنجیدہ لیتےہیں۔ہم چونکہ سنجیدہ تھے۔اس لئے۔محفل میں مریدکا مقام’’بیوی‘‘والا تھا۔
منگل، 2 مئی، 2017
گنجوں کی مانگ میں اضافہ
ماں کالاڈ۔پیار۔موسمی اثرات کے زیر اثر ہوتا ہے۔اماں۔موسم سرما میںہمیں۔مٹھو،راجہ اورسوہناکہتی تھی ۔اور جونہی گرمیاں آتیں تو۔ ہم سارے بھائی ٹنڈیں کروا لیتے تولاڈ بھی
بدل جاتا۔گرمیوں میں ہم اماں کے۔ ٹینڈے، مینڈے اورکدو۔ہوتے۔ موسم گرما کی
ابتدا ہوتے ہی۔ہم گرم
پہناوں کی طرح بال بھی اتار دیتے۔کیونکہ ٹنڈکی تاثیر ستُوجتنی ٹھنڈی ہوتی
ہے۔ٹنڈ اور ختنے ہمارے ایسے تہوار ہیں۔جس کا مزہ صرف دیکھنے والےلیتے ہیں۔ مجھے یادہے۔گرمیوں میں۔ہمارے ہاں ٹنڈیں کروانے کی اجتماعی تقریب ہوتی۔تقریب کے دوران ہم رو۔روکر اور۔ بڑے ہنس ہنس کرہلکان ہوجاتے۔ہم چونکہ
جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے تھے ۔اس لئے ہم کزنزکی ٹنڈ بھی جوائنٹلی ہوتی۔بڑوں
کوٹھولے مارنے کا شوق ہوتا تھا۔اورہمیں
بچنے کی فکر۔یوں سارا دن ٹنڈپر
ہاتھ رکھ کر میراتھن جاری رہتی۔
ہفتہ، 15 اپریل، 2017
قومی ترقی میں گدھوں کا کردار
سنو ۔! مسٹر آج کل بڑے سوٹڈبوٹڈ پھرتے ہو۔تھری پیس سوٹ ۔۔ٹائی
اورجوتے بھی برانڈڈ ہیں۔ تمہیں یاد نہیں؟ ۔ بچپن میں ہم گدھے
تھے ۔کچی جماعت سےدسویں تک۔بلکہ
ہمارے بہت سے دوست تو بڑے ہو کر بھی گدھے
ہی رہے ۔اور ہمارے بچے گدھے کے بچے ہیں۔خواہ ۔۔ تمہارے پاس ۔ نوکری۔ گاڑی۔
گھر۔بیوی اور بچے ہیں۔میرے پاس بھی ہیں۔۔لیکن ہیں تو ۔ہم گدھے۔
ہفتہ، 8 اپریل، 2017
کہانی اس مرد کی جو مرغی بن گیا۔!
تقریباً دو سال پرانی بات ہے۔بڑی عید سے چند روز پہلے میرے
دوست شیخ مرید اوربھابھی نصیبومیں لڑائی ہو گئی ۔ عید خوشیوں کا دیہاڑ ہے لیکن نصیبو
میکے جا بیٹھی۔اورنوبت علیحدگی تک پہنچ
گئی۔ہوا۔یوں کہ مرید قربانی کےلئےبیل
خریدکرلایا۔اسے کھونٹے سے باندھا ۔نصیبو بڑی
ریجھ۔سے بیل دیکھنےآئی۔لیکن ہیضے کی طرح لڑائی اچانک پھوٹ پڑی۔مرید۔دراصل چاہتا تھا کہ بیل کےلئے جو۔گانی، پٹہ، ماتھا
پٹی، نتھ اورجھانجھروہ خریدکر لایا ہے۔نصیبو
پہن کردکھائے۔آرائشی چیزیں ۔اسے پہنی ہوئی اچھی لگیں تو بیل
کو پہناؤں گا۔
ہفتہ، 1 اپریل، 2017
بوسے والے موبائل
بچپن
میں سکول سے جوئیں ڈلوا کر گھرآتے تو اللہ جانے آدھی اماں کے سر میں کیسے چلی
جاتیں۔؟۔جوئیں نکالنے کےلئے اماں۔تارا میرا۔ کا
تیل ڈال کر پہلے میرے سرمیں اور پھراپنےچمپئی کرتی۔اس کےبعد۔باریک کنگھی کے
ساتھ ایسا کومبنگ آپریشن شروع ہوتا۔کہ چٹخ پٹخ کی آواز کےساتھ لاشیں باہر گرتی جاتیں اورسرمیں
دس پندرہ دن کےلئے اتنا ہی امن ہوجاتا۔جتنا آپریشن ضرب عضب کے بعد ہوا ہے۔
سولہ سنگھار کا رواج تو اب نکلا ہے۔ تب ۔ا ماں ایک دو سنگھار ہی کرتی تھی۔اور ۔وہ بھی organic
سے ۔جیسے مہندی لگانا۔اور۔داتن کرنا ۔ مہندی تب جھاڑو کے تنکے سے لگائی جاتی تھی اور اخروٹ کی
چھال کودس بارہ منٹ تک چبانے کو داتن کرنا کہتے تھے۔
ہفتہ، 11 مارچ، 2017
بے زبان شوہر
پچھلے دنوں میرے دوست
شیخ مرید نے۔ مجھے ۔آل پاکستان رن مرید ایسوسی ایشن کا ممبر شپ فارم بھیجا ۔ ہم
دوستوں میں ایسا مذاق چلتا رہتا ہے لیکن
وہ کم بخت سیریس تھا۔مرید جب سیریس ہوجائے
تو میں پریشان ہوجاتا ہوں۔میں نے ممبر شپ
فارم الماری کے اُس دراز میں رکھ دیا تھا۔ جسے سالوں بعد صرف صفائی کے لئے کھولا جاتا ہے۔ لیکن ممبر شپ کے
لئے۔اُس کااصرار۔۔تقاضے میں بدل چکا ہے۔ کمینہ مجھےعہدہ بھی دینا چاہتا ہے میں
چپ رہوں تو۔نگوڑا۔ خاموشی کو ہاں سمجھتا ہے۔اس
لئے ہربارمیں صرف اتنا ہی کہہ پاتا ہوں۔ کہ’’میں فٹ ہوں‘‘۔
بدھ، 1 مارچ، 2017
تکیہ میراثیاں
وائسرائے ہند۔ بروس الیگزینڈر نے پٹیالہ گھرانےکے ۔موجدین۔ خان صاحب۔ فتح علی خان اور علی بخش خان کا سنگیت۔ پہلی بار سنا تو ۔پریشان ہوکر اُن کی جامہ تلاشی کا حکم دے دیا ۔کپڑے جھاڑے گئے۔اور ۔ منہ کھلوا۔
کرگلا چیک کیا گیا کہ کوئی مشین تو فٹ نہیں کر رکھی۔چوبدار جب مشین ڈھونڈنے میں
ناکام رہے تو وائسرائے نے کسبِ کمال کے اعتراف میں علی بخش خان کو جرنیل
اور فتح علی خان کوکرنیل کا خطاب دیا۔۔حالانکہ ان کی فنی ٹریننگ کسی توپ اور
بندوق کو چلانے سے نہیں۔ بلکہ ہارمونیم اور ستار بجانے سے ہوئی تھی۔ فوجی خطاب ۔ملنے پرابتدا میں تو جگ ہنسائی ہوئی ۔پھرآہستہ آہستہ۔سارا جگ معترف
ہوگیا۔جرنیل اورکرنیل۔دونوں کبھی رنگروٹ بھی بھرتی نہ ہوئے تھے لیکن کلیدی عہدوں پر پہنچ گئے ۔
بدھ، 8 فروری، 2017
بابا مسابا مرگیا۔۔!
دماغ کی طرز پر۔ اگرموبائل فون
کی کوئی ایپلی کیشن ہوتی تو اس کے صارفین کی تعداد بھی کافی زیادہ ہوتی ۔ ذرا تصور کریں۔جس کےپاس دوموبائل ہیں۔اور دونوں میں’’دماغ ایپ ‘‘ ڈاؤن لوڈ۔ہو تو دماغ کتنا چلے۔؟۔موبائل گھر والوں سے رشتہ توڑ کر دنیا والوں سے تعلق
جوڑنےوالا آزمودہ آلہ ہے۔بلکہ موبائل بچوں کی سپورٹس گراؤنڈ، بیوی کی سیرگاہ اور شوہر کی پناہ گاہ ہے۔ مرد ۔آج جتنا موبائل کے پیچھے پاگل ہے ۔اُتنا
کبھی عورت کے پیچھے ہوتا تھا۔اور عورت آج
جتنی موبائل میں گم ہے اِتنی ۔وہ کبھی
امورِخانہ داری میں ہوتی تھی۔ کہتے ہیں کہ
مرد۔بچپن سے جوانی تک دماغ کا استعمال کرتے ہیں ۔پھر شادی ہو جا تی ہے ۔شادی
کے بعدشوہر کا دماغ ۔ بیوی ۔ ہیپناٹائز کر لیتی ہے۔ ہر بیوی کے پاس دو ۔ دماغ ہوتے
ہیں۔ ۔ڈبل سم موبائل کی طرح ۔سِم ون کے سگنل پہلے ہی آوٹ ہوتے ہیں۔ہیپناٹائزہونے کے
بعد سم ٹو بھی بند ہو جاتی ہے۔۔
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)


















