جمعہ، 14 ستمبر، 2018

’’نکر یا ڈائپر‘‘

یہ زریں قول کسی جہاں دیدہ، داناوبینا کے بجائے ۔کسی تجربہ ساز کا لگتا ہے کہ اگر بچے کوناک میں انگلیاں مارنےکی عادت ہوتو اسے ڈھیلے الاسٹک والی نکر پہنائیں۔ یوں۔نہ رہےگا ہاتھ نہ بجے گی ’’بانسری‘‘۔ الاسٹک ربڑ سے بنا ہوا ایک لچک دار فیتہ ہوتا ہے۔جو ’’ٹیٹھ ہڈی‘‘ بچے کی طرح وہیں آکررکتا ہے۔جہاں سے ہٹایاجاتا ہے۔جبکہ نِکر ایک ڈھیلا ڈھالا پہناوا ہے۔یہ پہناوا جتنا لمبا ہوتا جائے اتنا ہی مردانہ دکھائی دیتا ہےاور جتنا چھوٹا ہوتا جائے۔ اتناہی زنانہ۔نکرکی لمبائی اورچھوٹائی کا سلسلہ اکثر جاری رہتا ہے اورکئی بارتونکرسےشروع ہونے والا سلسلہ ’’نہ کر‘‘پر پہنچ کرختم ہوتا ہے‘‘۔ انسان برہنہ پیدا ہوتا ہے اورجب تک وہ خودپہننےکے قابل نہیں ہوجاتا۔اسےسب سےزیادہ نکرپہنائی جاتی ہے۔بلکہ سب سے زیادہ اتاری بھی نکر ہی جاتی ہے۔

بدھ، 15 اگست، 2018

جہاز باہر کھڑا ہے۔ !

میں تقریبا تین دہائیوں سے موٹر سائیکل کا مسافرہوں۔ بالوں میں چاندی اترآئی اور موٹرسائیکل کا رنگ نکل آیا۔ لیکن یہ بکھیڑاحل نہیں ہواکہ موٹرسائیکل کی سی سی یا گاڑی کی ہارس پاورکیا بلا ہے۔؟۔البتہ دوستوں نے جب بھی موٹر سائیکل اوردشمنوں نے گاڑی خریدی۔میں نے یہ ضرور پوچھاکہ یہ کتنےسی سی ہے؟۔ایسے سوال پوچھنے میں کیا معرفت تھی۔ اورجواب جاننے میں کیاحکمت۔آج تک نہیں پتہ۔؟ شعور۔ابھی پورے طورپرٹمٹمایا بھی نہیں تھاکہ ہارس پاور کے ساتھ۔ہارس ٹریڈنگ کا بکھیڑا بھی اٹھ کھڑا ہوا۔ٹُو بی اور ناٹ ٹُو۔بی کی طرز پر عجب خود کلامی جاری رہتی۔

پیر، 7 مئی، 2018

رابی پیرزادہ سچ کہتی ہیں ؟

کند ہم جنس۔ باہم جنس پرواز
کبوتر با کبوتر۔۔ باز۔با۔باز
فارسی کے اس شعر کوسمجھنےسے پہلے۔ میں۔ جب بھی۔ ہم جنس کے بارے میں سوچتا تھا۔ میرے ذہن میں ہم جنسی پرستی آتی تھی۔۔میرے تخیل نے کئی بار کبوتر با کبوتر کے بارے میں اڑان بھری لیکن سوچ۔ باز۔ با۔باز سے باز نہ آئی۔ اللہ جانے یہ کوئی پری پول رگنگ تھی۔ پینتیس پنکچر تھے۔ ایمپائرکو ساتھ ملایا ہوا تھا۔کسی انگلی شنگلی کاچکر تھا یا خلائی مخلوق کے اثرات۔ جوکچھ بھی تھا۔نتیجہ بہت بھیانک تھا۔میں اس شعر میں پاس نہ ہو سکا اورہم جنس پرستی سے آگے نہ بڑھ سکا۔ اصلاحِ خیال اورنتیجے میں بہتری کے لئے۔میں۔ باقاعدہ اہل دانش کے ہاں بھی۔پہنچا۔اساتذہ سےجوتفہیم ملی۔اس کے بعد الحمد اللہ۔! میری پریشانی رفع ہوگئی۔سارےشش و پنج کافورہوگئے۔اب میں۔پہلے سے زیادہ یقین سے۔ہم جنس سے مراد ہم جنس پرستی سمجھتا ہوں۔

بدھ، 25 اپریل، 2018

’’ مجھے کیوں مارا۔ ؟‘‘

میرا دوست شیخ مرید آج طویل وقفے کے بعد ملا تھا۔اور۔۔اتنا خوش تھاکہ ۔خوشی۔رال کی طرح باچھوں سے جھلک رہی تھی۔
میں نےرسماً۔۔ اسےایک دھپا دیا اورپوچھا۔سناؤکیسی گذر رہی ہے؟۔
باچھ مزید پھیلی اوررال جھلکی۔۔الحمد اللہ، سبحان اللہ ، ماشااللہ۔ بہت اچھی۔ وہ بولا۔
طبعیت کچھ زیادہ ہی بشاش تھی۔کیونکہ تین تین کلمات طیبات یک مشت ادا ہوئے تھے۔

منگل، 26 ستمبر، 2017

زیرو سائز بیوی

دوسری شادی مردکی پہلی ضرورت ہوتی ہے۔بندہ دوسری شادی کرے توکسی میم سےکرے۔جتنی دیرمیم کو زبان سیکھنے۔فرفر بولنے اور گالیاں سمجھنے میں لگے گی۔شوہرکی زندگی پُر سکون رہے گی۔دیسی لڑکی سے دوسری شادی کرنا۔ایسے ہی ہے جیسے بندہ موبائل کی نئی کیسنگ خرید لے۔پہلی بیوی بدتمیز ہے تو دوسری بھی نکلے گی۔پہلی موٹی ہوگئی تو دوسری کی بھی گارنٹی نہیں۔بلکہ ممکن ہے۔پہلی طلاق لے لے اور۔دوسری نہ لے۔طلاق کےلئےسب سےزیادہ ضروری چیزشادی ہے۔شادی ایسا تعلق ہے۔جس میں ایک ہمیشہ درست ہوتاہے۔اور۔دوسرا شوہرہوتا ہے۔بیوی جب کھل کے سونا چاہتی ہے۔ شوہرسےلڑائی کرلیتی ہے۔ ’’پھردونوں ہنسی خوشی رہنےلگے‘‘۔کے اخلاقی سبق صرف نصابی کہانیوں میں ہوتے ہیں۔ خواتین کاحُسن ان کی خاموشی میں چھپا ہوتا ہے۔اسی لئے خاتون جب تک بیوی نہ بن جائے

بدھ، 23 اگست، 2017

چائے کی پیالی میں طوفان

فیصل آبادکاگھنٹہ گھرآٹھ بازاروں میں ویسےہی گھرا رہتا ہے۔جیسے رضیہ غنڈوں میں رہتی ہے۔آٹھ بازاروں میں چائے کےبہت سےڈھابے ہیں۔جن میں سےکچھ سُرخوں کےہیں۔کچھ’’سبزوں‘‘کے۔اور۔کچھ رلےملے۔ان ڈھابوں کی مشترکہ خصوصیت چائے ہے۔اعلی قسم کی چائے۔تیز دم۔ ٹھاہ کرکے لگنے والی۔ذائقہ اپنے پن کا۔۔تگڑا رنگ اورجوش۔۔جیسی کئی خصوصیات والی ڈھابہ چائے۔لیکن یہاں چائےامی بناتی ہیں اورنہ ہی امی کے گھرسےمنگوائی جاتی ہے۔اکھاڑےجب سےبندہوئےہیں۔تب سےیہ کام پہلوانوں نےسنبھال لیا ہے۔ٹھنڈی کھوئی والےپہلوانوں نے۔میں نےاندرداخل ہوتےہی آواز دی۔’’پہلوان ایک کڑک چائے۔ملائی مارکے‘‘۔

جمعرات، 3 اگست، 2017

آخری گنجے فرشتے

اردو ادب میں گنجے۔منٹو کی وجہ سے مشہور ہوئے اور سیاست میں’’ شریفوں‘‘کی وجہ سے۔منٹو نے گنجے فرشتے لکھ کر فلمی و غیر فلمی کرداروں کویوں برہنہ کیا۔گویا۔وہ میامی میں کسی نیلگوں’’ بیچ‘‘ پر لیٹے سن باتھ لے رہے ہوں ۔اُسی ساحل پر جن کے بارے میں سوچ کرہی دل کمینہ ہوجائے۔اور۔خواہ مخواہ چُٹکیاں بھرنےلگے۔گنجے فرشتے میں منٹو صاحب نے عصمت چغتائی سے لے کرفلم سٹار نسیم بانو تک۔ سارے ملائم کردارکھردرےکرچھوڑے۔۔البتہ معروف مزاح نگار عطا الحق قاسمی نے’’مزید گنجے فرشتے‘‘لکھ کر نہ صرف کھردروں کو ملائم کیا ۔بلکہ ان کرداروں کوکپڑے واپس پہنائے۔جن کےمنٹو نے اتار دئیے تھے۔’’گنجے فرشتے‘‘ کے دیباچے میں منٹو خود کہتے ہیں کہ’’میرے اصلاح خانے میں کوئی شانہ نہیں۔ میں بنائو سنگھار کرنا نہیں جانتا۔ اس کتاب میں جوفرشتہ بھی آیا اس کا مونڈن ہوا ہے اوریہ رسم میں نےبڑےسلیقے سےاداکی ہے‘‘۔