ہفتہ، 17 دسمبر، 2016

عامر خان بھی رن مرید نکلے ۔؟

بچپن  بھی کیا خوب تھا۔کسی دوست سے کچی  ہوجاتی تو چھوٹی انگلی بھڑا کرقطع تعلق کرلیتے اورپکی کرنی ہوتی  تو شہادت  کی انگلی ملا لیتے۔کچی  کھلے عام ہوتی توچھپ کر ہونےوالی پکی۔جھوٹی سمجھی جاتی  تھی۔بچپن کی لڑائیوں کا مشہور جملہ ہوتا تھا۔’’ جوکہتا ہے وہی ہوتا ہے‘‘۔ لیکن تب دوستیاں اُتنی ہی   پکی ہوتی تھیں۔جتنی آج کل پاکستان اورچین کی دوستی ہے۔سمندر سے گہری، ہمالےسےاونچی اورشہد سےمیٹھی۔ بچپن  کی  لڑائیاں اس  اضطراب سے پاک تھیں۔ جن میں   معروف ناٹک نگا رشیکسپیر کےاکثر   کردارمبتلا  رہتے ہیں۔شیکسپیرشائد پہلا  ناٹک نگار تھا جس نے  ڈراموں میں کرداروں سے خود کلامی کروائی۔ جسےانگریزی میں Soliloquy  کہتے ہیں۔ جیسے۔
To be or not to be, that is the question

ہفتہ، 10 دسمبر، 2016

بلاول بنتِ زرداری

بلو ہماری  فلمی سیاست اورغیر فلمی ثقافت   کا  ایسا کردار ہے ۔جوگانوں میں ہٹ اور سیاست میں فِٹ  ہے۔مجھے جب بھی بلویاد آتی ہے۔ تو۔شیخ رشیداور۔ ابرارالحق کی یاد ساتھ لاتی ہے۔دونوں غیر فلمی ہیں۔ لیکن پوری فلم ہیں۔ابرار الحق  موسیقی کے ایفل ٹاور ہوں گے ۔ لیکن میں ان کی  سیاسی بصیرت کاقائل ہوں۔انہوں نے سالوں پہلے ہی گانوں میں بِلو کو متعارف  کروا یا تھا۔جس معراج پر شیخ رشیدتقریبا ایک  دھائی بعدپہنچے۔ابرار الحق۔اچانک بِلو کوچھوڑ گئے اوربلے سےمنسلک ہوکرسیاست میں شیخ رشید کے پیچھے چل پڑے۔ شیخ رشید پاکستانی سیاست کے پِیسا ٹاورہیں۔تھوڑےٹیرےسے۔ابرار کی بِلو آج کل شیخ رشید کے پاس ہے۔اور خاصی پاپولر بھی ہے۔ لیکن میرا دوست شیخ مریدکہتا ہےکہ بِلو ایسا مرد ہے۔جس کی عوامی مقبولیت بطور  عورت ہے۔ہارمونل تبدیلی کے بغیر۔

ہفتہ، 3 دسمبر، 2016

سیاست میں گالیوں کااستعمال

اندرون شہروں کے بل کھاتے محلوں میں اکثر  پھپھے کُٹن  ماسیاں ہوتی ہیں ۔جو کیبل کی طرح ہر گھر میں جاتی ہیں ۔ جنہیں گھریلو راز۔وائی فائی کے  سگنل کی طرح  با آسانی مل جاتےہیں۔زچگی سے بچگی تک۔ دن رکھنے سےدن پھرنے تک کے سگنل۔۔ وہ رشتے ایلفی کی طرح جوڑنے اور شیشے کی طرح توڑنے کی ماہر ہوتی ہیں۔محلوں کی لڑائیوں اور شناسائیوں ۔سمیت کئی سماجی خدمات ماسیوں کے دم سے قائم  ہیں۔ہمارے محلے کے لونڈوں، لفینٹروں نے  ماسی کانام  گوگل  رکھا ہوا ہے۔اورسوشل  سروس کے اعتراف میں ماسی کے چاروں  بچوں کےنام بھی سوشل میڈیا سے منسوب  ہیں۔  بڑی بیٹی ’’وٹس ایپ‘‘ہے۔منجھلی۔ ماں کی کاپی ہےاسے ’’گوگل پلس‘‘کہتے ہیں۔چھوٹی ’’ یوٹیوب ‘‘ہے اور بیٹا ٹوئیٹر۔

ہفتہ، 26 نومبر، 2016

مٹھائی والا ۔ایم پی اے

ہا۔ ہائے۔ یہ نگوڑ ی تو کل  پی ٹی آئی  والوں  سے مٹھائیاں  کھا رہی  تھی۔ا ٓج ن لیگ سے۔ اس  کم بخت ،  ناٹھی  کو  لت لگ گئی ہے۔ست ربٹی گیند کی طرح تھاں تھاں ٹھپے کھانے کی۔ویلی۔ناٹنکی ۔ چلو وہ تومٹھائی کی شوقن تھی۔ اِس ایم پی اے کو کیا ہوا  ۔ چور اچکا چوہدری تے لنڈی رن پر دھان ۔ ساری خواتین کو یہی کیوں مٹھائی کھلا رہا ہے۔ارے ۔چائے والا تو سنا تھا۔مٹھائی والا  بھی دیکھ لیا۔مجھے تو ایسے مرد ’’راجہ گدھ ‘‘کے قیوم لگتے ہیں۔ تمہیں یاد نہیں  آپا بانو  نےکہا تھا ۔’’محبت کی اصل حقیقت بڑی مشکل سے سمجھ آتی ہے ۔ کچھ لوگ جو آپ سے اظہار محبت کرتے ہیں اتصال جسم کے خواہاں ہوتے ہیں۔ اورکچھ آپ کی روح کے لیے تڑپتے ہیں ‘‘۔

ہفتہ، 19 نومبر، 2016

خورشید شاہ بیوٹی سیلون

یہ ان دنوں کی بات ہے جب سکولوں میں ملیشیا یونیفارم ہوتا تھا۔بال بھی کالے، جوتے اور کپڑے بھی۔تپتی دوپہروں میں سکول سے واپسی پرجسم کی ہر وہ چیزتوے کی طرح تپنے لگتی جوکالی ہوتی۔تالو۔ ڈبی دار یاسرعرفاتی رومال میں لپٹاہوتا لیکن بندہوجانے والےبھٹہ خشت کی طرح گھنٹوں تپتا رہتا۔پاؤں بوٹوں کےاندرمونگ پھلی کی طرح گرم ہورہتے۔گھرپہنچتے تواتنےضعیف ہوتے۔جسے افطاری سےقبل روزہ دار۔اماں کےپاس ساری تکلیفوں کاایک ہی تریاق تھا۔مہندی۔۔تب عام گھروں میں پلنگ کی جگہ منجھے ہوتےتھے۔اماں رات کوادوائن سے اوڑھنی ہٹاکرپیروں پراُتنی مہندی چڑھا دیتی۔جتنی چاچےجانے کے پیروں پرمٹی لگی ہوتی جب وہ کچی دیواریں لیپنےکےلئےپیروں سےگوندھتا تھا۔مہندی راتوں رات خشک سالی کا شکار زمین کی طرح پھٹ جاتی۔اگلی صبح پاؤں تربوزکی طرح سوئے لال ملتے۔کسی روزیونہی سربھی لال ہوجاتا۔

ہفتہ، 12 نومبر، 2016

راجہ ریاض تھک چکے ہیں۔ ؟

آج کل مردوں  و خواتین میں جو درد سب سے زیادہ اِن ہیں ۔وہ دردِ شقیقہ اور۔ ریح  کے درد ہیں۔ ریح  کا درد۔  کمر سے شروع ہوکرکولہے ۔اورپھرٹانگ تک جاتا ہے۔درد کا تعلق کسی  قبیلے سےنہیں  ہوتا۔لیکن بعض عمرانی ناقدین نے برگر نام  سےایک نیا قبیلہ  بنا دیا ہے۔جو دردِشقیقہ کومیگرین ۔اور۔ ریح کو شیاٹیکا کہتا ہے۔اگرچے۔برگرہردرد کوسردرد۔بنا چھوڑتے ہیں لیکن ہم کسی برگر کا دردمحسوس نہیں کر سکتے۔سالوں پہلے خواتین  درد شقیقہ  ہونےپر ڈوپٹے سےسر۔کس لیا کرتی تھیں۔بُورے( آٹے) کا سوپ پی کر گھریلو ٹوٹکے بھی آزماتیں تھیں۔شقیقہ  آدھےسر  کا دردہے۔جو رُک رُک کرہوتا ہے  اورچند روزہ وقفےکے بعدپھرہوتا ہے۔میرا دوست شیخ مرید کہتا ہے کہ  دردِشقیقہ۔سیاسی دردہے۔یہ انقلاب کی طرح کئی بار رُکتا ہےاوردھرنے کی طرح پھر ہوجاتاہے۔

ہفتہ، 5 نومبر، 2016

گل سُن ڈھولنا۔

ہمارے ہاں تفریح کےمواقعے کم ہیں۔ اسی لئے بچوں کی پیدائش کی شرح  زیادہ ہے۔اسے یوں بھی کہا جا سکتا ہےکہ تفریح کے محدود مواقعوں کی وجہ سے۔ اکثر ازدواجی  لڑائیاں صلح پر ختم ہوتی ہیں۔یوں بچوں کی پیدائش کی شرح بڑھ جاتی ہے۔مردشادی اس لئے کرتا ہے کیونکہ گھرپہنچتے ہی تنہائی کاٹ کھاتی ہے اور شادی کے بعدیہی کام بیوی بھی کرنےلگتی ہے۔شادی کےابتدائی دنوں میں جو شوہر بھاگم بھاگ بیوی کی ہر فرمائش پوری کرتے ہیں۔وہ جلد ہی فرمائش سن کر بھاگنے لگتے ہیں۔یوں لڑائی وٹ پر پڑی ہوتی ہے۔