بچپن بھی کیا خوب
تھا۔کسی دوست سے کچی ہوجاتی تو چھوٹی انگلی
بھڑا کرقطع تعلق کرلیتے اورپکی کرنی ہوتی
تو شہادت کی انگلی ملا لیتے۔کچی کھلے عام ہوتی توچھپ کر ہونےوالی پکی۔جھوٹی
سمجھی جاتی تھی۔بچپن کی لڑائیوں کا مشہور
جملہ ہوتا تھا۔’’ جوکہتا ہے وہی ہوتا ہے‘‘۔ لیکن تب دوستیاں اُتنی ہی پکی ہوتی تھیں۔جتنی آج کل پاکستان اورچین کی دوستی ہے۔سمندر سے گہری، ہمالےسےاونچی اورشہد سےمیٹھی۔ بچپن کی لڑائیاں اس اضطراب سے پاک تھیں۔ جن میں معروف
ناٹک نگا رشیکسپیر کےاکثر کردارمبتلا رہتے ہیں۔شیکسپیرشائد پہلا ناٹک نگار تھا جس نے ڈراموں میں کرداروں سے خود کلامی کروائی۔
جسےانگریزی میں Soliloquy کہتے ہیں۔ جیسے۔
To be or not to be, that is the question






