مجھے بچپن سے ملتان سے پیار ہے۔اور۔اس پیار کی اکلوتی وجہ میرا
پیٹ ہے۔جسے ملتانی سوہن حلوے کی لت لگ گئی تھی۔سفر وسیلہ ظفر۔ کی مانند جب کبھی ٹرین
پر کراچی جانا ہوا۔ ملتانی سوہن حلوہ خانیوال سےخریدنا پڑا۔ سنِ بلوغت سے پیرانہ سالی کی
طرف راغب ہوئے تو ملتان میں اولیا اللہ کے
مزار۔دلی تسکین کاسبب بھی بن گئے۔تو
ملتانی عقیدت پیٹ سے دل تک پہنچ گئی۔شعور
تھوڑا۔ عالیِ مرتبت ہوا تو ملتان کی ازلی
محرومیاں دیکھ کردماغ کی بتی بھی روشن ہوئی ۔ پھر عقیدت نے دماغ کو بھی لپیٹا مارلیا۔ملتان کے ساتھ ہر دور حکومت میں وہی سلوک ہوا۔
جو پارلمیانی طرز حکومت میں صدرسے ہوتا ہے۔ بلکہ یوں کہہ لیں کہ جنوبی پنجاب کا صدر مقام ملتان باقی پنجاب کا’’ ممنون‘‘ہے۔؟۔ملتان۔ اولیا اللہ کی وجہ سےمعجزوں کاشہربھی ہے۔لیکن پچھلے دنوں یہاں ایک سیاسی معجزہ ہوا۔ جس پر سرائیکیوں کو حکومت کا ممنون ہونا چاہیے۔
