تاریخ ہند کی بیشتر کتب مہاراجوں کے تذکروں سے بھری پڑی ہیں ۔ان
میں کچھ راجے بھی تھے۔ایام جہل کی بات ہے جب گاؤں
میں کِکر کی ٹھنڈی چھاؤں تلے پڑی کرسی پر
بیٹھتے ہی کہا کرتے تھے۔ راجہ۔آگےسے سیٹ کر دو۔اور پیچھے سےباریک ۔اور وہ
کنگھا۔ قینچی پکڑکر شروع ہو جاتا۔راجہ سرسے جُڑا رہتا اور میری نظریں شیشے سے۔ویسے یہ شیشےاتنےجھوٹے
ہوتے ہیں کہ کوجھے سے کوجھا۔گاہک۔بھی خود
فریبی میں مبتلا ہوجائے۔شیشہ اگر۔کوجھا
ہو تو گاہک شیشے میں نقص نکالتااورکٹنگ کوجھی ہو جائےتونقائص کی گردان راجےکی گردن پرمنتقل ہوجاتی ۔کوسنے کا
سلسلہ اگلی حجامت تک جاری رہتا۔نومولود بچوں کےختنوں سےلےکربال کاٹنےکے
دوران سراورکان پرٹک لگنے تک کی جراحت بھی اُسی کےذمہ ہوتی۔
