ایک وقت تھا جب انگلی غیر سیاسی ہوا کرتی تھی تب اس کا ا ستعمال
صرف ادب میں ہوتا تھا ۔یعنی انگلی کی ترویج میں ادب
کا ہاتھ تھا۔ پھر کچھ بے ادب ۔ادب سے ہاتھ کرنے لگے۔اسی دوران انگلی سے بھی ہاتھ ہو گیا۔میں نےسالوں پہلے
اردو ادب میں پڑھا تھا۔’’سیدھی انگلیوں سے گھی نہیں
نکلتا‘‘۔ہم بے ادبوں نےتشریح کے دوران اس محاورے کی ساخت ہی تبدیل کر ڈالی۔ آج وہی محاورہ ۔’’گھی
سیدھی انگلی سے نہ نکلے تو انگلی ٹیڑھی کر
لینی چاہیے‘‘۔میں بدل چکا ہے۔اگر مزید تبدیلی نہ ہوئی تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ’’انگلی وہاں پہنچ چکی ہے جہاں
اسے ہونا چاہیے‘‘۔یوں انگلی کا وہ
سفرجو۔ادب سے شروع ہوا تھا ۔2014 میں
اسلام آباد پہنچ کرتھم گیا ۔ لیکن انگلی اُٹھی نہیں۔اسلام آباد پاکستان کا سیاسی مرکز ہے یوں ہم کہہ
سکتے ہیں کہ انگلی سیاسی ہو گئی۔
