جمعہ، 15 مئی، 2015

’’ میڈم کسی چیز کی ضرورت تو نہیں۔۔؟‘‘

ہم نے سنا بھی دیکھا اور پڑھا بھی کہ جب انسان نے شکار کرنا اور کھانا چھوڑا تو جانور پالنے کی روایت نےجنم لیا۔انسان نے ترغیب دی تو کئی جانور دم ہلا ہلا کر پیچھے چلنے لگے۔پھرتو شیر بھی اپنی درندگی سمیت کتوں کی طرح گھروں میں پلنے لگے۔بکری، بھینس،گائے اور گھوڑے جنگل کی دہلیز پار کرکے آدی واسی ہو گئے۔۔بلی کو ہم نے خود گھر کا راستہ دکھایا۔کیونکہ غلے پر چوہے قابض تھے۔ٹام اینڈ جیری کا کھیل آج بھی جاری ہے۔بلی نے چوہے کھائے اور ہم غلہ۔پھربلی گوداموں سے ڈرائینگ روم میں آگئی۔۔ ہم نے اسے چُلو چُلو دودھ پلا کر سدھایا۔ اس کی مونچھوں کاٹیں، بالوں کے spikes بنائے۔پھر بلی ڈرائنگ روم سے کچن میں گھس گئی۔۔

کچے گھروں کے حارے سے بلی نے کاڑھے دودھ کی موٹی بالائی کھائی تو ہم چھکوُ لے آئے اور دودھ کو چھکوُ میں رکھ کر کھونٹے سے لٹکایا دیا۔۔تو بلی نے بہت اچھل کود کی لیکن دودھ کھٹا(دہی) ہو چکا تھا۔۔ناامیدی میں نکلنے والی آواز۔۔ میاؤں، میاؤں ہمارے نوزائیدہ بچوں کی پہلی زبان بن گئی۔ہم اسے کیٹی کیٹی پکارنے لگے۔ہم نے بلی سے بہت کچھ سیکھا۔۔گھروں سے بلی سکولوں میں۔۔ب۔۔بلی اور سی فار کیٹ بن گئی۔محاوروں اور لطیفوں میں بھی اسے جگہ ملی۔۔ مصوروں کا اہم کردار بھی بنی رہی۔۔اچانک بلی شوبز میں آن دھمکی۔۔کیٹ واک۔۔
آج کیٹ واک ایک school of thought ہے۔ بلی سکول آف thought۔۔۔یہ نظریہ مقبول ہوا تو کئی بلے بھی آن ٹپکے بلکہ باگڑ بلے۔۔
کیٹ واک۔۔بلی چال کا انگریزی ورژن ہے۔۔مٹک مٹک کر بلکہ مٹکا مٹکا کر، دھمک دھمک کر بلکہ دھمکا دھمکا کر۔۔منفرد سی چال۔۔
اس واک میں بلی کا پہلا پاؤں وہاں پڑتا ہے جہاں دوسرا پڑنا چاہیے۔۔یہی کیٹ واک ہے۔۔بلیاں اکثر چھتوں اور منڈیروں پر چلتی ہیں۔۔یہ ان کا ریمپ ہے۔۔ کم چوڑا لیکن لمبا۔۔ لیکن سمجھ نہیں آتا ہم کیٹ واک کرنے والے کو ماڈل کیوں کہتے ہیں۔۔ شائد دلی نہیں بلکہ بلی نسبت ہے ۔۔ماڈلز چونکہ دوسرے کی چال چلتی ہیں۔اس لئے ان کے چلن خراب لگتے ہیں۔بلیوں کی طرح ماڈلز جگہ جگہ منہ مارنے اور نیا گھر دیکھنے کی خصوصیات بھی رکھتی ہیں۔۔انہیں ہر گھر یاد بھی رہتا ہے۔۔۔
بلی سے تنگ ایک آدمی اسے دور چھوڑنے گیا تو واپس پہنچنے سے پہلے بلی پہنچ گئی
اگلے روز وہ آدمی بلی کو مزید دور چھوڑنے گیا۔۔ پھر بلی پہلے پہنچ گئی
تیسرے روز آدمی بلی کو مزید دور چھوڑنے گیا لیکن خود راستہ بھول گیا اور بیوی کو فون کیا
شوہربیگم سے:بلی گھر پہنچ گئی ہے
بیوی:ہاں
شوہر:لیکن میں راستہ بھول گیا ہوں اسے کہو مجھے بھی لے جائے
خبر یہ ہےکہ ملک کی مشہور ماڈل ایان علی کو 14 مارچ 2015 کو اسلام آباد ائیرپورٹ پر منی لانڈرنگ کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا۔وہ 82 ویں بار ملک سے باہر جا رہی تھیں۔۔ہینڈ بیگ سے 5 لاکھ ڈالر نکلے۔5 کروڑ روپے۔ رقم منتقل کرنے کا 4 فیصد ایان کو ملنا تھا۔۔یعنی 20 لاکھ چھیچھڑوں کے خواب۔۔اب کھسیانی بلی اڈیالہ جیل میں کھمبا نوچ رہی ہے۔۔وہاں 45 سو قیدی ہیں۔ ۔دہشت گردی، قتل اور دیگر سنگین جرائم کے قیدی۔۔
چور نے ایک گھر کی دیوار پھلانگی تو مالک کی آنکھ کھل گئی
مالک: کون ہے ۔۔؟
چور: میاؤں۔۔
دوسرے چور نے جمپ کیا تو مالک نے پھر پوچھا کون۔۔؟
دوسرا چور: دوسری بلی
اداکارہ میرا کہتی ہیں کہ منی لانڈرنگ میں ایان علی تنہا نہیں۔کئی اور ماڈلز بھی ملوث ہیں۔۔لیکن بلی تھیلے سے ابھی باہر نہیں آئی۔
میرا ویسے تو عموما بونگیاں مارتی ہے۔۔ لیکن اگر تفتیش ہو تو ممکن ہےدوسری، تیسری اور چوتھی بلی بھی جیل پہنچ جائے۔
میڈیاکے بقول۔۔ ایان کوجیل میں اعلی کمرہ ملا ہے۔TV، فریج اور جدید کپڑوں سے بھری الماری،جیمرز فیل کرنے والا موبائل۔ منزل واٹر، تازہ جوس اور مزیدار کھانے بھی۔ایان کا وزن 5 کلو بڑھ گیا ہے۔۔وہ جیل میں ورزش کرنا چاہتی ہیں لیکن اسے اوپن ورزش کی اجازت نہیں۔۔جیلر نے ان ڈور ورزش کیلئے سامان کی خریداری اور تنصیب کا بل ساڑھے 3 لاکھ روپے بنایا ہے اور سندیس دیا ہے کہ رہائی پر ایان ورزشی سامان تحفے کر جائیں گی۔چھلا دے جا نشانی
جیلرکہتے ہیں۔۔ایان کمرے کے بجائے بلاک میں ہے۔10 دیگر خواتین قیدیوں کے ساتھ۔۔ہفتے میں 2 بار ملاقات۔۔ کینٹین سے کھانے اور لائبریری سے کتابوں کی اجازت ہے۔۔۔وہ ماڈلنگ کی طرح جیل میں بھی کوئی بھی لباس پہن سکتی ہے۔۔کیونکہ قیدی نہیں حوالاتی ہے۔B.A تعلیم کی وجہ سے وہ جیل میں بی کلاس چاہتی ہیں۔ایک خدمت گار۔۔اور مزید سہولیات۔۔۔۔
جیل میں کیٹی کے کوائف نئے سرے سے درج ہوئے۔۔نام ایان علی، تاریخ پیدائش 30 جولائی 1993، جائے پیدائش دبئی، قد، 5 فٹ 9 انچ۔ عمر22 سال۔۔ پیشہ ماڈلنگ۔۔۔2010 میں بیسٹ فی میل ماڈل کا ایوارڈ۔4 بار لکس ایوارڈ nominee۔۔ سن سلک، یوفون، سام سنگ، ہنڈا، calvin klein اور والز آئس کریم کی برانڈ ایمبسڈر۔۔ 2014میں میوزک ویڈیو ریلیز ہوئی۔۔
ایان 14 مارچ سے تادم تحریر ریمانڈ پر ہے۔۔ہربار14 روزہ ریمانڈ۔۔جیل سے عدالت پھر واپس جیل۔۔ریمپ پر واک کی طرح۔۔مٹک مٹک کر لیکن ضمانت نہیں ہو رہی۔۔
ٹیچر:خالی جگہ پُر کرو۔۔ 100 چوہے کھا کے۔بلی۔۔۔۔چلی؟
بچہ: 100 چوہے کھا کے بلی مٹك مٹك کر چلی؟
ٹیچر: ابے! یہ غلط ہے
بچہ : سر آپ کا لحاظ ہے ورنہ سو چوہے کھا کے بلی ہل بھی نہیں سکتی!
لیکن ایان جب بھی پیشی پر آتی ہیں تو لگتا ہے ریمپ پر آگئی ہیں۔ٹی وی چینلز دو ماہ سے پر پیشی پر۔ فیشن کا ہے یہ جلوہ گانابجا رہے ہیں۔ احاطہ کچہری میں پولیس، وکلا، صحافی اور سائلین بلے بن جاتے ہیں۔ٹام اینڈ جیری کی نئی قسط چلتی ہے۔فوٹو اور ویڈیو شوٹ بھی ہوتا ہے۔
ایڈیٹوریل ماڈلنگ، رن وے ماڈلنگ، کیٹلاگ،پرنٹ،شو روم ماڈلنگ، فٹنس ماڈلنگ، باڈی پارٹ، کمرشل،لائف سٹال، کارپوریٹ، پراڈکٹ DEMO، وارم باڈی ماڈلنگ اور پھر گلیمر ماڈلنگ۔۔شوٹ کی ہر صنف۔!
دشمنانِ ایان کہتے ہیں کہ وہ ہر پیشی پر ڈیزائنر سوٹ پہنتی ہے اور مہنگا ترین میک اوور۔۔اتنا بن ٹھن کر وہ کچہری میں کیا پرموٹ کرتی ہے۔ حسن کا جادو عدالت پر تو چلا نہیں سکی۔
ایان۔۔پکڑی گئی تو ہُڈ پہنی تھی۔۔پہلی پیشی برقعے میں ہوئی۔۔پھر برقعہ اٹھ گیا۔۔اگلی پیشیوں پر سفید،گلابی، سیاہ سوٹ پہنے اور آخری جھلک جینز اور نیٹ شرٹ میں تھی۔۔ چہرے پر اطمینان، آنکھوں میں چمک اور ہوٹوں پر ہنسی اور بارعب چال۔۔ کچہری میں ہر اینٹری کمال۔۔ دماغ میں آفریں، آفریں گانا ہر بار بجا ۔۔وہی گانا جو سنائی تو نہیں دکھائی ضرور دیتا ہے۔۔
ماڈلز عموما گونگی ہوتی ہیں۔ریمپ پر بلیوں اچھلتی ہیں۔۔میااااوووؤں کی طرح ان کی زبان ایک ہی ہوتی ہے۔۔باڈی language ۔۔ریمپ پر ادائیں، جلوے، نخرے۔۔منڈیروں کی طرح۔۔وہ چال دکھا کر کال ہوتی ہیں۔ اور سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کے بھائی خالد ملک نے باڈی language میں ماسٹرز کر رکھا ہے۔۔وہ ایان والی فلائیٹ کے ہی مسافر تھے۔ لیکن دوسری بلی ایان کا راستہ کاٹ گئی۔ خالد ملک باہر چلے گئے۔۔ایان اندر(جیل میں)۔۔منی لانڈرنگ کے کھلاڑی بھکر گئے۔جیل میں کھٹملوں کوپہلی بارماڈل خون چوسنے کو ملا اور مچھروں کو چٹیاں کلائیاں کاٹ کھانے کو۔۔یہ دعوتِ ایان تھی۔۔دعوتِ عام نہیں۔۔ایان نے بہت سے ٹی وی کمرشل کئے لیکن جیل میں اسے سب سے زیادہ Mospel کا کمرشل یاد آیا ہو گا۔۔۔’’آو یار خون چوسنے چلیں‘‘۔والا کمرشل۔ آج کئی مچھر پچھتا رہے ہوں گے کاش وہ جیل کے مچھر ہوتے۔ کیونکہ گھڑے کی مچھی ہاتھ میں تھی۔؟
تفتیشی نے عدالت سے مزید وقت بھی مانگا ہے۔۔وہ بال بال کریدنا چاہتے ہیں چاہے ہفتوں لگ جائیں لیکن۔۔کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔۔
تفتیشی ٹیم نے جب بلی کی گلے میں گھنٹی باندھی تو اس نے بھیگی بلی بن کر پہلی بار میاوؤں کیا۔۔حکام نے لکھا کہ۔۔’’میں نے بحریہ ٹاون میں پانچ پلاٹس 5 لاکھ،6800 ڈالر میں بیچے یہ وہی رقم ہے۔۔مجھے پتہ نہیں تھا اتنی رقم باہر لے جانا جرم ہے۔؟‘‘
ایک بار تفتیشی نے عدالت کو بتایا کہ جیلر ایان سے تفیش کے لئے گھنٹوں انتظار کرواتے ہیں۔
بھئی۔! انتظار کیوں نہ کروائیں آخر وہ پہلی بار جیل آئی ہے۔رقابت کیسی۔۔؟ اور شکایت کیسی۔۔؟انہوں نے تفتیش نہیں کرنی۔۔؟غنم۔۔وہ مال ہوتا ہے جو جنگ کے بعد فاتح کو ملتا ہے۔۔اس پراکسی جنگ میں فاتح اڈیالہ جیل والے ہیں۔۔وہ اپنی غنیمت کسی اور کو کسیے دے سکتے ہیں لیکن واقفان حال کہتے ہیں کہ کچھ لوگ ایان کی گرفتاری پر بےحال ہیں۔۔سندھ نے خط لکھ کر پنجاب سے ایان مانگی ہے۔کیونکہ باہر والے اندر جانے سے خوفزدہ ہیں۔۔ایان اندر رہ گئی تو وہ باڈی language پڑھنےوالےکئی بِلوں کے لئے دروازے کھولےگی اور باہر آگئی تو خوشی میں باہر کے دروازے کھل جائیں گے۔۔لیکن کراچی چلی گئی تو اڈیالہ والے سوگ منائیں گے۔آج کل پوری جیل ڈسپلن میں ہے۔قیدیوں کے جرائم کا گراف گر گیا ہے۔سالوں بعد جیل اہلکاروں کا من روزانہ نوکری کے لئے مچلنے لگا ہے۔وقت کی پابندی۔۔اجلی وردی۔۔ کڑک دار سلوٹ اور توندوں کے فکر مند اہلکار۔۔وہ تو شوق سے ہر بارک، بلاک اور سیل میں جھانکنے لگے ہیں اور وقفے وقفے سے پوچھتے ہیں۔۔’’میڈم کسی چیز کی ضرورت تو نہیں۔۔؟‘‘
ایان کہتی ہیں کہ وہ ایام اسیری پر فلم بنائیں گی۔فلم کے لئے جیلر، وکیل، پولیس، کسٹمز، بلے اور ماسٹر ڈگری ہولڈرز سب کردار اس کے ہاتھ میں ہیں۔۔
تازہ خبر آئی ہے کہ ایان کو 5 سے 14 سال تک کی سزا ہو سکتی ہے۔۔ایسا ہوگیا تو وہ پھر فلم ہی بنائےگی۔کیونکہ رہائی پر اس کے چہرےکا سیاہ تل کالے دھبہ بن چکا ہوگا۔۔وزن بڑھ چکا ہوگا اور بلے کسی اور بلی کو ریمپ پر دیکھ رہے ہوں گے۔۔
سنا ہے آیان جیل میں ڈائری بھی لکھ رہی ہیں۔۔ شائد وہ بار بار لکھ رہی ہوں۔۔ بلی شیر کی خالہ ہے۔۔۔ بلی شیر کی خالہ ہے۔۔۔!

5 تبصرے:

  1. بہت اعلی جناب، کافی دونوں بعد کسی بلاگ پر ایک عمدہ تحریر پڑھنے کو ملی

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. ابو شامل ۔۔۔ بھائی صاحب شکریہ آپ نے حوصلہ افزائی کی

      حذف کریں
  2. بہت ہی خوب اجمل صاحب۔ عمدہ تحریر

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. شکریہ عمیر بھائی۔۔۔۔ کافی دیر کے بعد آپ کو دیکھ کر اچھا لگا

      حذف کریں