دریا تہذیبوں کے امین لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
دریا تہذیبوں کے امین لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 4 اپریل، 2015

دریائے سندھ کو پھولوں کا خراج

گلیشئیر سے برف پگھل کر یا جھیل کا پانی۔۔۔ خشکی پر بہتا چلا جائے تو اسے دریا کہتے ہیں۔دریا یا تو کسی دوسرے دریا سے جا ملتا ہے۔ یا کسی بحرمیں جا گرتا ہے۔ دریا مستقل بھی ہوتے ہیں اور  معاون بھی۔۔ ایک دریا اگر دوسرے میں جاگرے تو معاون کہلاتا ہے۔بقول قتیل شفائی
گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا
پنجاب پانچ دریاوں کی دھرتی ہے اور دریا ہماری زرعی خوشحالی کے ضامن ہیں۔۔ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی اگر زراعت ہے تو۔۔۔
دریا زراعت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔۔۔ دریاوں کے کنارے کہیں تو لہلہاتی فصلیں ہیں اور کہیں تہذیبیں دفن ہیں۔بہتے پانی کے آگے بند جو نہیں باندھا جا سکتا۔۔۔ لیکن پانی کا بے ہنگم بہاو روکا ضرور جا سکتا ہے۔