بچپن میں اماں بھنڈیاں کاٹتی توبھنڈی کی ٹوپیاں چھری سے
کاٹ کرالگ برتن میں رکھتی جاتی۔ہم تھوڑی
تھوڑی دیربعدماں کے پاس آتے۔برتن سے
ٹوپیاں اٹھا کرماتھے ، ناک،ٹھوڑی اورگالوں پر چپکالیتے پھر بےوجہ اڑتے پھرتے۔اُڑان کے دوران بازوں کو ہم یوں کھلے رکھتے جیسےفلم ڈی ڈی ایل جےمیں راج (
شاہ رخ )، سمرن(کاجول)کے لئے کھولے رکھتا ہے۔پورا دنایسی
ہی خراورشرمستیوں میں گذرجاتا تو رات
کو دادی یا نانی کے ہتھے چڑھ جاتے۔دادیوں اورنانیوں کےپاس حالانکہ شہزادوں اور
پریوں کی کہانیاں بھی ہوتی ہیں لیکن وہ ہمیں گودمیں سمیٹ کرصرف لوری سناتیں اورسُلانے
کےبہانےاپنے سُرپکےکرلیتیں۔
