پروڈیوسر
ہمیشہ نئی فلم کے لئےکاسٹ کاانتخاب یہ سوچ کے کر تے ہیں کہ فنکاروں
کے پردہ سکرین پرآتے ہی ہر طرح کےفلم بینوں کےذوق کی تسکین ہو جائے۔ یعنی گلیمر۔ ڈانس ۔ایکشن ۔اور۔کامیڈی۔فلم میں ہر
فلیورکا تڑکہ برابر لگتا ہے جیسے۔دال کو بھگار لگتا ہے۔فلم جتنی بھی رنگین اورتڑکہ
جتنا بھی چٹخارے دارہو۔ڈائیلاگ خواہ کتنے ہی اوپن ہوں۔اور سنسر کتنا ہی نرم کیوں نہ ہو۔
کامیڈین کےبغیرفلمیں سنجیدہ رہتی ہیں۔2008سے 2013 تک ملک میں جوفلم چلی وہ انتہائی سنجیدہ سی تھی۔کیونکہ شیخ رشید’’اسمبلی کاسٹ‘‘سے باہر تھے۔فرزندانِ راولپنڈی نے ناقابل شکست فرزندِ راولپنڈی کو 2008اور2010 میں جاوید ہاشمی اور
شکیل اعوان سےشکست دلوادی تھی۔
